اسلام سے پہلے عربوں کی دینی حالت
اسلام
سے پہلے عربوں کی دینی حالت ان کے بارے میں بنیادی طور پر عرب میں دین 5 طرح
ادیان پائے جاتے تھے 1 ابراہیم علیہ السلام کا دین حنیف کہتے ہیں 2 یہودیت
جو یعقوب علیہ السلام کی اولاد جو بنی اسرائیل کہلاتے ہیں بنیادی طور پر یہ موسی
علیہ السلام کی پیروی کرنے کے دعوے دار ہیں 3 اس کے بعد مسیحیت جو عیسائی کہلاتے
ہیں عیسی علیہ السلام کی طرف منسوب کرتے ہوئے اور 4چوتھے بتوں اور پتھر کے پجاری
مشرکین اور5 پانچویں سیاروں اور ستاروں کی پوجا کرنے والا سورج چاند کی پرستش کرنے
والے یہ پانچ ادیان قابل ذکر ہیں عام طور عرب میں بت پرستی بری طرح پھیل چکی تھی
کہا جاتا ہے بنو قضا کے کے ایک دین دار شخص تھا جس کا نام امر ابن لحی تھااس نے اس
کا آغاز کیا وہ ملک شام گیا وہاں دیکھا لوگ بتوں کی پرستش کرتے ہیں یہ شام
کے وہ لوگ ہیں جن کے پاس بہت سے انبیاء آ چکے لہذا ان کا طریقہ برحق ہو گا
وہاں سے یہ ہبل نامی بت لے آیا چونکہ یہ دین دار تھا مذہبی تھا لوگوں کی نظروں میں
اور قابل احترام تھا اس طرح سے لوگ اس کے دھوکے میں آ گئے اور بت پرستی پھیلتی گئی
اس کے بعد بہت سے بت وہاں پیدا ہو گئے یا لوگوں نے پھیلا دیئے کتاب میں عام طور پر
مشرکین جن بتوں کو پوجتے تھے ان کے لئے دو طرح کے الفاظ استعمال کیئے گئے
ہیں ایک اوثان دوسرے اصنام ۔اصنام جمع ہے صنم کی صنم اس بت کو کہتے ہیں جو انسانی
شکل میں بنایا گیا ہو ہر وہ چیز جو انسانی شکل دی گئی ہو اور اس کی پوجا کی جاتی
ہو اس کو صنم کہتے ہیں اور وہ اصنام کی پوجا کرتے تھے اور وثن ہر وہ چیز جس کی
کوئی شکل و صورت نہیں دی گئی لیکن اس کی پوجا کیجاتی
تھی جیسے درخت پتھر پرندے مختلف حیوانات ہیں ان کو یہ وثن کہتے تھے وثن کی جمع
اوثان اصنام اور اوثان یعنی بتوں پتھروں درختوں وغیرہ کی یہ پوجا کرتے تھے
جن اصنام کی پوجا کرتے تھے اس میں لات عذی اور منات شامل تھے سورتہ النجم میں اللہ
تعالٰی نے فرمایا أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّىٰ (19) وَمَنَاةَ
الثَّالِثَةَ الْأُخْرَىٰ ( کیا تم نے دیکھا لات عزی اور منات کو ) لات ایک نیک
شخص تھے حاجیوں کو ستو گھول کر پلایا کرتے تھے جب ان کا انتقال ہو گیا تو لوگوں نے
ان کی پوجا شروع کر دی اور عذی ایک درخت کا نام تھا جو وادی نخلہ میں موجود تھا
مکہ اور طائف کے درمیان میں اس کی پرستش کرتے تھے عام طور پر بنو
کنانہ اور قریش اس کی پوجا کرتے تھے اور منات بھی ایک بت تھا جو قدیب میں
تھا اوس اور خزرج اس کی پوجا کرتے تھے یہ اصنام تھے جن کو پوجتے تھے اور بہت
سے اوثان تھے درخت تھے پرندے تھے جن کی پوجا کی جاتی تھی کہا جاتا ہے امر
ابن لحی کے پاس ایک جن تھا اس نے خواب میں اس کو خبر دی کہ قوم نوح جن بتوں کی
پرستش کرتی تھی وہ جدہ میں مدفون ہیں وہ وہاں پہنچا اور کھود کر ان کو لے
آیا جن کو ود، سوا، یعغوث، یعوق، نصر مکہ لانے بعد جو لوگ حج سے باہر سے آئے ہوئے
تھے ان میں تقسیم کر دیا اس طرح ان کی پرستش بھی پھیل گئی مشرکین نے خود کعبہ اللہ
میں بہت سے بت رکھے ہوئے تھے 360 بت رکھ دیئے جیسا کہ مختلف سیرت کی کتابوں میں
ذکر کیا گیا ہے گویا آدمی چمکتی چیز کو نفع بخش سمجھتا اور اس کی پوجا کرتا
تھا بتوں کی پرستش کے علاوہ بہت سی رسمیں بہت سی بدعتیں عبادت کے علاوہ انھوں نے
رائج کر لیئے تھے جن کی تفصیلات اللہ تعالٰی نے سورتہ الاحزاب میں بیان کی ہے عام
طور پر وہ بتوں کی پرستش کرتے تھے لیکن کچھ لوگ ایسے تھے جو ابھی بھی ابراہیم علیہ
السلام کے دین پر تھے جن کا اصل دین ابراہیم علیہ السلام کے دین پر تھا ابراہیم
علیہ السلام نے اسماعیل علیہ السلام کو آباد کیا تھا مکہ میں اور انہیں کی طرف یہ
منسوب ہوتے تھے لیکن ایک زمانہ ہو چکا تھا ان کی باتیں متمٹ چکی تھی لیکن پھر بھی
کچھ لوگ بتوں کی پوجا سے انکار کرتے تھے ایک اللہکی
پرستش کرتے تھے اسی لئے حنیف کہا جاتا ہے -
ساری
دینا سے کٹ کر اللہ تعالٰی کی عبادت کے لیے یک سو ہو جانا یہ دین حنیف پر قائم تھے
یہ دین عرب میں پایا جاتا تھا جسے دین حنیف کہتے ہیں ابراہیم علیہ السلام کے دین
کو جہاں تک یہودیت کا سوال ہے یہودی عام طور پر یمن میں پائے جاتے تھے عرب کے بعض
علاقوں میں اس کے اطراف میں انھوں نے بسیرا کر لیا تھا جیسے خیبر میں یثرب میں جس
کا بعد میں نام رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہجرت کرنے کے بعد مدینہ ہو
گیا تو وہاں بھی یہ پائے جاتے تھے انھوں نے کوشش تو کی کہ عربوں میں یہودیت کو
پھیلائیں لیکن عرب نے اسے قبول نہیں کیا لحاظہ یہودیت زیادہ پھیل نہیں سکی اس کے
علاوہ جہاں تک مسیحیت کا سوال ہے تو مسیحیت نجران میں موجود تھی روم بہت بڑی سلطنت
تھی جو عرب کے پڑوس میں تھے اور حبشے میں جن کی سلطنت تھی وہ بھی مسیح ہی تھے اور
نجران یمن کا علاقہ تھا وہاں یہ پائے جاتے تھے اور ہیرہ میں بصری میں ان کا وجود
تھا اور انہیں نے کوشش بھی کی کہ عرب میں مسیحیت کو پھیلائیں خاص طور پر ابرھة جس
نے یمن میں بڑا کلنیسہ قائم کیا تھا اور لوگوں کو دعوت دی تھی کہ اس کا حج کریں اس
نے قوت اور زور کے ساتھ کوشش کی مسیحیت کی اشاعت کی لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکا
کیونکہ عربوں نے اس کو قبول نہیں کیا لہذا مسیحیت ان علاقوں میں پائی جاتی تھی جن
کا یہاں ذکر کیا گیا ہے اس کے علاوہ ستاروں اور سیاروں کی جہاں تکپوجا
ہوتی تھی خاص طور پر سورج اور چاند کی اللہ تعالٰی نے فرمایا سورتہ فصلت(( وَمِنْ
آيَاتِهِ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ۚ لَا تَسْجُدُوا
لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ
إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ)) سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہے لہذا تم ان کو
سجدہ نہ کرو بلکہ اللہ کو سجدہ کرو جس نے تمھے پیدا کیا ہے اگر تم اللہ کی عبادت
کرنے والے ہو " جو لوگ سورج اور چاند کی پرستش کرتے تھے ان کو صابی کہتے تھے
یہ دین بھی یہاں پایا جاتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بحثت کے
وقت عرب میں جو ادیان پائے جاتے تھے یہ مختصر سی کچھ باتیں ہیں۔
جواب دیجئے آنے والے سوالوں کا؟
سوال1: وہ کون سے اہم ادیان ہیں جو جزیرہ عرب سے پہلے پہنچ تھے؟
جواب : پانچ ادیان ہیں ایک دین حنیف دوسرا ،یہودیت تیسرا مسیحیت ، بتوں اور پتھروں کی پرستش، پانچواں ستاروں اور سیاروں کی پرستش ۔
سوال2 : وہ کون سے اوثان ہیں جن کی عرب پرستش کرتے تھے؟ اور یہ اوثان کس چیز سے بنائے جاتے تھے؟
جواب : جیسا کہ وضاحت کی گئی وثن ان تمام چیزوں کو کہتے ہیں جن کی کوئی انسانی شکل نہیں دی گئی اور وہ ان کی پوجا کرتے تھے درخت ، پتھر ، پرندے ، حیوانات ۔ یہ اوثان سونے سے پتھر سے الماس سے لکڑی سے مختلف چیزوں سے وہ اوثان بنایا کرتے تھے جن کی وہ پرستش کرتے تھے ۔
سوال 3: وہ کون سے بت ہیں جن کا قرآن میں ذکر آیا ہے ۔؟
سوال1: وہ کون سے اہم ادیان ہیں جو جزیرہ عرب سے پہلے پہنچ تھے؟
جواب : پانچ ادیان ہیں ایک دین حنیف دوسرا ،یہودیت تیسرا مسیحیت ، بتوں اور پتھروں کی پرستش، پانچواں ستاروں اور سیاروں کی پرستش ۔
سوال2 : وہ کون سے اوثان ہیں جن کی عرب پرستش کرتے تھے؟ اور یہ اوثان کس چیز سے بنائے جاتے تھے؟
جواب : جیسا کہ وضاحت کی گئی وثن ان تمام چیزوں کو کہتے ہیں جن کی کوئی انسانی شکل نہیں دی گئی اور وہ ان کی پوجا کرتے تھے درخت ، پتھر ، پرندے ، حیوانات ۔ یہ اوثان سونے سے پتھر سے الماس سے لکڑی سے مختلف چیزوں سے وہ اوثان بنایا کرتے تھے جن کی وہ پرستش کرتے تھے ۔
سوال 3: وہ کون سے بت ہیں جن کا قرآن میں ذکر آیا ہے ۔؟
جواب : اس سبق میں تین کا ذکر آیا ہے لات ، عزی، منات۔
سوال 4 : صابئة کون ہیں حنفاء کون ہیں ؟
جواب : صابئہ وہ لوگ ہیں جو ستاروں اور سیاروں کی جو سورج چاند کی پرستش کرتے تھے اور حنفاء جمع ہے حنیف کی یہ وہ لوگ ہیں جو ابراہیم علیہ السلام کے دین پر قائم تھے جو بتوں کی پرستش نہیں کرتے تھے صرف ایک اللہ کی عبادت کرتے تھے ۔
سوال 5: جزیرہ عرب میں یہود کہاں آباد تھے؟ کیا عرب میں یہودی دین پھیل گیا تھا اور کس لئے ؟
جواب : یہودی یمن میں تھے اور خیبر اور یثرب کے آس پاس تھے یہودی مذہب نہیں پھیلا تھا عرب میں کیوں عربوں نے اس کو قبول نہیں کیا تھا۔
سوال 6: وہ کون سے علاقے ہیں جہاں مسیحیت نے اپنے قدم گاڑیگاڑ دیئے تھے جزیرہ عرب میں؟
جواب : نجران جو یمن کا علاقہ تھا اور حیرة اور بصری میں اپنے قدم گاڑے تھے انہیں علاقوں میں وہ موجود تھے۔
سوال 7: کیا ابرھة کامیاب ہوا تھا اس نے جو کلنیسہ بنایا تھا عربوں کو اس کی طرف حج کرائے؟
جواب : ابرھة کامیاب نہیں ہوا تھا اپنی کلنیسہ کی طرف حج کے لیے عربوں کو لے جانے میں ۔
سوال 4 : صابئة کون ہیں حنفاء کون ہیں ؟
جواب : صابئہ وہ لوگ ہیں جو ستاروں اور سیاروں کی جو سورج چاند کی پرستش کرتے تھے اور حنفاء جمع ہے حنیف کی یہ وہ لوگ ہیں جو ابراہیم علیہ السلام کے دین پر قائم تھے جو بتوں کی پرستش نہیں کرتے تھے صرف ایک اللہ کی عبادت کرتے تھے ۔
سوال 5: جزیرہ عرب میں یہود کہاں آباد تھے؟ کیا عرب میں یہودی دین پھیل گیا تھا اور کس لئے ؟
جواب : یہودی یمن میں تھے اور خیبر اور یثرب کے آس پاس تھے یہودی مذہب نہیں پھیلا تھا عرب میں کیوں عربوں نے اس کو قبول نہیں کیا تھا۔
سوال 6: وہ کون سے علاقے ہیں جہاں مسیحیت نے اپنے قدم گاڑیگاڑ دیئے تھے جزیرہ عرب میں؟
جواب : نجران جو یمن کا علاقہ تھا اور حیرة اور بصری میں اپنے قدم گاڑے تھے انہیں علاقوں میں وہ موجود تھے۔
سوال 7: کیا ابرھة کامیاب ہوا تھا اس نے جو کلنیسہ بنایا تھا عربوں کو اس کی طرف حج کرائے؟
جواب : ابرھة کامیاب نہیں ہوا تھا اپنی کلنیسہ کی طرف حج کے لیے عربوں کو لے جانے میں ۔